؍۱۷جون 1928ء کو قادیان میں منعقد ہونے والے جلسے میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر نہایت پُرمعارف خطاب فرمایا جو بعد ازاں ’’دنیا کا محسن‘‘ کے عنوان سے زینتِ قرطاس بنا

جب تک تمام ادیان اور مختلف خطّوں کے بزرگان کا احترام نہ کیا جائے تب تک نہ خدا مل سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ 1928ء میں مذاہب کے درمیان رواداری کی فضا پیدا کرنے کے لیے جماعت احمدیہ نے ہندوستان کے طول و عرض میں جلسہ ہائے سیرۃالنبیﷺ کی بنیاد رکھی۔ ان جلسوں کے انعقاد کا پس منظر بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ دنیا میں جسمانی اور روحانی لحاظ سے امن کا قیام اِسی پر ہے کہ اپنے خیالات اور اپنی زبانوں پر قابو رکھا جائے اور ایسے رنگ میں کلام کیا جائے کہ تفرقہ اور شقاق نہ پیدا ہو۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے بُعد کو روکنے کا یہی طریق ہے کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق مذہبی حیثیت کی بجائے علمی حیثیت سے جلسہ کیا جائے۔ اگر لوگ دوسرے مذاہب کے لیڈروں کی خوبیاں سن سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ محمدﷺ کی خوبیاں وہ نہ دیکھ سکیں۔ ایسے جلسوں میں غیرمسلم لوگوں کے شامل ہونے سے روزبروز بڑھتی ہوئی خلیج دُور ہوسکتی ہے۔ نیز خود مسلمانوں کو بھی رسول کریم ﷺ کے حالات معلوم ہونے سے عقیدت اور اخلاص پیدا ہوسکتا ہے۔ پھر دوسرے مذاہب کے لوگ جب آپؐ کے صحیح حالات سنیں گے تو وہ اُن لوگوں کو روکیں گے جو آپؐ کو گالیاں دیتے ہیں۔ پس اس تحریک کو کامیا ب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم اُس مقصد کو پالیں جو کہ ہندوؤں کو بھی پیار ا ہے اور مسلمانوں کو بھی اوروہ ہندوستان کا امن اور ترقی ہے۔