؏  قرآں    کو   یا د   رکھنا   پاک   اعتقاد   رکھنا

فکر   معا د   رکھنا   پاس   اپنے   زاد   رکھنا

اکسیر   ہے   پیارے   صدق   و سداد   رکھنا

یہ   روز   کر   مبارک   سبحن   من   یرانی

 اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اسکی رہنمائی کے لئے بہت سے الہامات اور صہفے اوتارے ، جن میں آسمانی کتب ،بائبل ، تو رات، ذبور اور انجیر شا مل ہیں۔ آخری اور مکمل شریعت جس کتاب کے ذریعے نازل کی گئ وہ قر آن مجید ہے۔ قرآن مجید کے ابتدا میں بیا ن ہو ا ہے ۔

اللہ تعالیٰ  فر ما تا ہے  یہ ایک ایسا چشمہ ہے جو پاک دل ہو کر اس سے فیض اٹھا نا چا ہے وہ اس سے فا ئدہ اٹھا ئے گا۔ تقویٰ میں بھی آگے بڑھے گا، وہ ہدایت پا نے والوں میں بھی شمار ہو گا کیو نکہ یہ وہ کتا ب ہے جس میں کو ئی شک نہیں اور یہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔ اس کی وضا حت کر تے  ہو ئے خلیفۃالمسیح خا مس ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں ۔    ' بہر حال ایک  احمدی کو خاص طو ر پر یہ یا د رکھنا چا ہیے  کہ اس نے قر آن کر یم پڑھنا ہے، سمجھنا ہے، غور کر نا اور جہاں سمجھ نہ آئے وہاں حضرت مسیح مو عود علیہ الصلوۃ والسلام  کی وضاحتیوں سے یا پھر انہیں اصولوں پر چلتے ہو ئے اور مزید وضاحت کر تے ہو ئے خلفاء نے جو و ضا حتیں کی ہیں ان کو ان کے مطابق سمجھنا چا ئیے ۔ اور پھر اس پر عمل کر نا ہے تب ہی ان لو گو ں میں شمار ہو سکیں گے جن کے لئے یہ کتا ب ہدایت کا با عث ہے۔ ورنہ تو احمدی کا دعویٰ بھی غیروں کے دعوے کی طر ح ہی ہو گا کہ ہم قرآن کو عزت دیتے ہیں ، اس لئے ہر ایک اپنا اپنا جا ئزہ لے کہ یہ صرف دعویٰ تو نہیں ؟ اور دیکھے کہ حقیقت میں وہ قرآن کو عزت دیتا ہے ؟ کیو نکہ اب آسمان پر وہی عزت پا ئے  گا جو قرآن کو عزت دے گا  اور قرآن کو عزت دینا یہی ہے کہ اس کے سب حکموں پر عمل کیا جا ئے۔ قر آن کی عزت یہ نہیں ہے کہ جس طر ح بعض لوگ شیلفوں میں اپنے گھروں میں خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر قرآن کر یم رکھ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر ماتھے سے لگا کر پیار کر لیا اور کا فی ہو گیا اور جو بر کتیں حا صل ہو نی تھیں ہو گئیں۔ یہ تو خدا  کی  کتا ب سے مذاق کر نے والی بات ہے۔ دنیا کے کاموں کے لئے تو وقت ہو تا ہے لیکن سمجھنا تو ایک  طر ف رہا، اتنا وقت بھی نہیں ہو تا کہ ایک دو رکوع تلاوت ہی کر سکیں۔ پس ہر احمدی کو اس بات کی فکر  کر نی چا ئیے  کہ وہ خود بھی اس کے بیوی بچے بھی قرآن کر یم پڑھنے اور اس کی تلاوت کر نے کی طر ف تو جہ دیں ۔ پھر تر جمہ پڑھیں پھر حضرت مسیح موعودؑ کی تفسیر پڑھیں ۔ یہ تفسیر بھی تفسیر کی صورت میں تو نہیں لیکن بہرحال ایک کام ہو ا ہوا ہے  کہ مختلف کتب اور خطا بات سے، ملفوظات سے حوالے اکٹھے کر کے ایک جگہ کر دئیے گئے  ہیں ۔ اور یہ بہت بڑا علم کا خزنہ ہے۔ اگر ہم قرآن کر یم کو اس طر ح نہیں پڑھتے تو فکر کر نی چا ئیے اور ہر ایک کو اپنے با رے میں سوچنا چا ئیے  کہ وہ احمدی کہلانے کے بعد ان باتوں پر عمل نہ کر کے احمدیت سے دور تو نہیں جا رہا۔'

قرآن پہ عمل کر نے پہ خود قرآن کر یم ےیہ فر ما تا ہے ۔ ' اور یہ بہت مبارک کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے، پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کر و تا کہ تم رحم کئے جا ؤ۔(الانعام ۱۵۶)۔ ایک اور ایت میں فر مایا ۔ "پس جو کچھ تیری طر ف وحی کیا جا تا ہے اسے مظبوطی سے پکڑ لے۔ یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔ اور یقینا یہ تیرے لئے ایک عظیم ذکر ہے اور تیری قوم کے لئے بھی اور تم ضرور پو چھے جا ؤ گے"۔  (الزخرف ۴۵،۴۴)۔   نا صرف قرآن میں بلکہ احا دیث میں بھی قرآن کو عزت دینے والوں کے بارے میں بیان ہو ا ہے ۔ جیسے کہ حضرت ابن عمر  بیان کر تے ہیں کہ آنخضرت ﷺ نے فر مایا : عا شق قرآن سے کہا جا ئے گا کہ قرآن پڑھ اور درجات میں ترقی کر تا جا۔ اور اسی طر ح خوش الحانی سے پڑھ جس طر ح دنیا میں پڑھتا تھا ۔ تیرا مقام اس آخری آیت تک تر قی پذیر ہے جو تو تلا وت کر ے گا۔ (جا مع تر مذی)۔

حضرت مسیح مو عو د ؑ اس ضمن میں فر ماتے ہیں ؛ "تمہا رے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن مجید کو مہجو ر کی طر ح نہ چھو ڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دینگے وہ آسمان پر عزت پا ئیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن  کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان  پر مقدم رکھا جا ئے گا۔ نو ع انسان کے لئے  رُوئے زمین پر اب کو ئی کتا ب نہیں مگر قر آن اور تمام آدمزادوں کے لئے اب کو ئی روسول    اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ ﷺ۔ سو تم کو شش کرو کہ محبت اس جا ہ جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور  اس کے غیر کو اس پر کس نو ع کی بڑائی  مت دو تا آسمان پر تم نجا ت یا فتہ لکھے جاؤ۔( کشتی نو ح) حضرت خلیفۃالمسیح اوّل حقائق فر قان میں   بیان کر تے ہی۔" میں تم کو قر آن شریف سنا تا ہوں، مد عا اس سے میرا یہ ہو تا ہے کہ تم اس پر عمل کرو۔ اور عمل کر کے اس سے نفع اٹھا ؤ.  قرآن کر یم پر عمل کر نے سے انسان کے آٹھ پہر خوشی سے گزارتے ہیں۔ قرآن  شریف پر عمل کر نے سے انسان کو خوشی و عزت اور کم از کم بندوں کی اتباع اور محتاجی سے نجات ملتی ہے۔۔۔ اگر تم قرآن  شریف پر تو جہ رکھو تو تم گمراہ کر نے والوں کی کو ششوں سے محفوظ رہ سکتے ہو۔ بھلائی  اور برائی سمجھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔قرآن  شریف !" (حقائق الفرقان جلد ۲ ص ۵۷)۔ خطبا ت محمود میں حضرت  خلیفۃالمسیح ثانی  اس معاملے میں بیان کر تے ہیں ۔ " غرض   کے یہی معنے ہیں کہ جب تر قی اسلام کا زمانی آئے گا تو جو لوگ قرآن کی اشاعت کر نے والے ہو ں گے تو خواہ وہ کتنے بھی غریب ہوں اور کیسے ہی حقیرہوں بڑی عزتیں پا ئیں گے۔ باقی لوگ مال و دولت کے ذریعہ سے عزت حاصل  کر تے ہیں مگر وہ لوگ اشاعت قرآن کے ذریعہ سے ترقی کر یں گے اور اشاعت قرآن کے ذریعہ سے ہی عزت حا صل کر یں گے۔  ایک اور حدیث میں اتا ہے : حضرت ابو اما مہ الباھلی روایت کر تے ہیں ۔ کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فر ماتے ہو ئے سنا۔ قرآن پڑھو کیو نکہ قیامت کے دن وہ اپنے پڑھنے والوں کیلئے شفیع کے طو ر پر آئے گا۔ ( صحیح مسلم )


Magazine - Other articles