Al-Fazl International ( Urdu)

تاریخ کی موجودہ درسی کتب میں دنیا بھر میں یہی پڑھایا جاتا ہے کہ امریکہ کا براعظم کولمبس نے 1492ء میں دریافت کیا۔ مگر کم ہی لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ کولمبس کے سمندری سفر کرنے سے پہلے بھی مسلمان اس قسم کے سفر کر چکے تھے۔ اس ضمن میں ایک نیا دریافت کیا گیا نقشہ اس دور پر اور مسلمانوں کی کھوئی ہوئی علمی میراث پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ نقشہ سلطنت عثمانیہ کے مشہور ایڈمرل محی الدین پیری رئیس (Piri Re’is) (وفات 1554ء) نے تیار کیا تھا۔

عموماً نقشوں سے متعلق یہی مشہور ہے کہ یہ مدفون خزانوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پرانے نقشے اپنی ذات میں ہی ایک خزانہ ہوتے ہیں کیونکہ ان سے ایک طویل عرصے سے مفقود علم دوبارہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سمندری نقشوں کی بظاہر اتنی اہمیت نہیں رہی بلکہ عام زمینی نقشوں کا استعمال بھی متروک ہو چکا ہے۔ اگر ہم آج کسی جگہ جانے کا قصد کریں تو سفر کرنے سے قبل ہی گوگل میپس(Google Maps) یا گوگل ارتھ (Google Earth)کے ذریعہ اس جگہ کے راستہ، کیفیت بلکہ تصاویرتک دیکھ لیتے ہیں۔ مگر چند سو سال پہلے تک لوگو ں کو زمین کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کولمبس کی وجہ سے دنیا میں سمندری نقشوں کی اہمیت بڑھی اور وہ سمندری سفروں کے لیے نا گزیر ہوگئے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اقتدار اور معاشی خوشحالی کی کلید بن گئے۔

اگرچہ علمی حلقوں میں یہ بات بہت پہلے سے مشہور ہے کہ امریکہ کولمبس سے بہت پہلے مسلمان ملّاحوں کے ذریعہ دریافت ہوچکا تھا اور ترک اس کے دریافت کرنے میں پہلے تھے یعنی turkey first‘‘ترکی پہلے’’ سے ہی وہاں پہنچ چکے تھے۔

اب یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کولمبس وہ پہلا شخص نہیں جس نے امریکہ دریافت کیابلکہ اس سے کوئی آدھ ہزار سال پہلے وائکنگز (Vikings)شمالی امریکہ کے ساحلوں تک پہنچ چکے تھے۔ لیکن اس بات کو مغربی مورخین بڑی حد تک اب تک نظرانداز کرتے چلے آئے ہیں۔ یعنی یہ کہ امریکہ کے ساحل کو مسلمان حیرت انگیز طور پر تفصیل سے ایک لمبے عرصے سے بخوبی جانتے تھے۔ ترک ایڈمرل پیری رئیس کا نقشہ امریکہ کی تاریخ اس دریافت پر دلچسپ سوالات پر روشنی ڈالتا ہے۔

اندلس یعنی سپین اپنے عروج پر عالم اسلام کے لیے علم وہنر کا ایک مرکز بن کر ابھرااور وہاں بڑے بڑے علماء اور فضلاء پیدا ہوئے جن میں ابن رشد، ابو القاسم اور ابن حزم جیسے مشہور نام بھی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر زوال آیا اور 1469ء کو مسلمان حکومت صرف غرناطہ (Granada) تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اور بالآخر 1492ء میں آخری مسلمان حکمران ابو عبد اللہ نے شکست تسلیم کرتے ہوئے شہر کی چابیاں عیسائی حکمرانوں کے سپرد کیں اور جلاوطنی اختیار کرلی۔ اس کے ساتھ ہی سپین میں مسلمانوں کا دَور اختتام پذیر ہو گیا ۔ عیسائی بادشاہوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کچھ عرصہ تک وہاں موجود رہی۔ ا ب بھی اندلس میں موجود مسلمانوں کے دَور کی پر شکوہ عمارتیں اور محلات اس پرانےدَور کی یاد دلاتے ہیں۔ عیسائی حکمرانوں نے جس سال غرناطہ پر قبضہ کیا اسی سال یعنی 1492ء میں کولمبس نے اپنے سفر امریکہ کا آغاز کیا۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کولمبس سپین سے مغرب کی طرف سفر کرنے سے پہلے بحر اوقیانوس کے دوسرے کنارےکے بارے میں کیا جانتا تھا ؟ اور کیا کولمبس نے اپنے سفر امریکہ کے لیے مسلمانوں کے تجربوں اور علم سے فائدہ اٹھایا؟

 

؍۱۷جون 1928ء کو قادیان میں منعقد ہونے والے جلسے میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر نہایت پُرمعارف خطاب فرمایا جو بعد ازاں ’’دنیا کا محسن‘‘ کے عنوان سے زینتِ قرطاس بنا

جب تک تمام ادیان اور مختلف خطّوں کے بزرگان کا احترام نہ کیا جائے تب تک نہ خدا مل سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ 1928ء میں مذاہب کے درمیان رواداری کی فضا پیدا کرنے کے لیے جماعت احمدیہ نے ہندوستان کے طول و عرض میں جلسہ ہائے سیرۃالنبیﷺ کی بنیاد رکھی۔ ان جلسوں کے انعقاد کا پس منظر بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ دنیا میں جسمانی اور روحانی لحاظ سے امن کا قیام اِسی پر ہے کہ اپنے خیالات اور اپنی زبانوں پر قابو رکھا جائے اور ایسے رنگ میں کلام کیا جائے کہ تفرقہ اور شقاق نہ پیدا ہو۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے بُعد کو روکنے کا یہی طریق ہے کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق مذہبی حیثیت کی بجائے علمی حیثیت سے جلسہ کیا جائے۔ اگر لوگ دوسرے مذاہب کے لیڈروں کی خوبیاں سن سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ محمدﷺ کی خوبیاں وہ نہ دیکھ سکیں۔ ایسے جلسوں میں غیرمسلم لوگوں کے شامل ہونے سے روزبروز بڑھتی ہوئی خلیج دُور ہوسکتی ہے۔ نیز خود مسلمانوں کو بھی رسول کریم ﷺ کے حالات معلوم ہونے سے عقیدت اور اخلاص پیدا ہوسکتا ہے۔ پھر دوسرے مذاہب کے لوگ جب آپؐ کے صحیح حالات سنیں گے تو وہ اُن لوگوں کو روکیں گے جو آپؐ کو گالیاں دیتے ہیں۔ پس اس تحریک کو کامیا ب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم اُس مقصد کو پالیں جو کہ ہندوؤں کو بھی پیار ا ہے اور مسلمانوں کو بھی اوروہ ہندوستان کا امن اور ترقی ہے۔