ابتدائے آفرینش سے آج تک تاریخ کی ورق گردانی سے ایک حقیقت ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ اللہ رب العلمین نے درود دیوار کی محبت انسانی سرشت میں ودیعت کر رکھی ہے۔ یہ محبت انسان کے شعور میں بھی ہے اور لاشعور میں بھی۔آنحضرت ﷺنے فرمایا: ”حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الاِيمان“ یعنی وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہمیں وطن سے محبت کے عظیم الشان نمونے ملتے ہیں کہ جب ورقہ بن نوفل نے کہا کہ آپ کی لوگ تکذیب کریں گے، آپ کو تکلیف میں مبتلا کریں گے تو آپﷺ خاموش رہے مگر جب ورقہ بن نوفل نے یہ کہا کہ آپ کو وطن سے نکال دیں گے تو آپ نے فوراً تکلیف اور کرب کا اظہار کرتے ہوے فرمایا!” کیا وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے؟“ ہجرت مکہ کے وقت بھی آپﷺ نے تاریخی الفاظ وطن کی محبت کے بارے میں فرماتے ہوے کہا! ” اے مکہ تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے ہجرت پر مجبور نہ کرتی تو میں مکّہ کے سوا کہیں سکونت اختیار نہ کرتا “
اس محبت کا نظارہ اُحد سے بھی نظر آتا ہے جب آپﷺ نے فرمایا ! ” ھَذَا جَبَلٌ یُحِبُّ وَ یُحِبُّہ ٗ“ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔آنحضرتﷺ کی وطن سے محبت ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم بھی اپنے وطن سے محبت کرنے والے ہوں تاکہ ہمارے ایمانوں کی تکمیل ہو سکے۔ وطن سے محبت دراصل حقوق العباد کا پیش خَیمہ ہے۔احمدیت کے تاریخ وطن سے محبت کی عظیم الشان داستانے اپنے حجرے میں آباد کیے ہوے ہے۔وہ بانیٰ احمدیت حضرت القدس مسیح الموعود علیہ سلام کی اپنے وطن ہندوستان سے محبت ہو یا خلفاۓ احمدیت کی مراکز احمدیت ربوہ، قادیان یا پاکستان سے محبت ہو۔ ہر داستاں ایک عظیم محبت و خلوص کا اظہار کر رہی ہے۔یہ قصّہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ آج دنیا کا ہر احمدی اپنے وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار ہے۔ہم نے وطن کی تعمیر میں حصّہ لیا تو ترقی وطن میں ڈاکٹر عبدالسلام اور حضرت ظفراللہ خان صاحب جیسے نمونے احمدیت میں ملتے ہیں۔سینکڑوں احمدی ماؤں نے اپنے لخت جگر وطن عزیز پر قربان کیے تو ہزاروں لوگوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنے اموالوں کی قربانی دی ۔پس ضرورت ہے تو اس عمر کی کہ ہم اپنی آیندہ آنے والی نسلوں میں بھی اس جذبہ محبت کی شمع جلانے والے ہوں۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک حقیقی مومن بنتے ہوۓ وطن کا مُحب اور وفادار سپاہی ہو۔ (آمین)
خدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو