• يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔
  • [2:1844] اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
  • آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی اہمیت کا علم ہوتا تو لوگ چاہتے کہ پورا سال ہی رمضان رہے۔ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ رمضان کی فضیلت کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقینا جنت کو رمضان کیلئے مزیّن کیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان کے روزے ایمان کے ساتھ اور محاسبۂ نفس کرتے ہوئے رکھے تو اس کے تمام گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔
  • پس گناہوں کی معافی اور روحانی ترقی کیلئے محاسبۂ نفس ضروری ہے کہ کیا انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کر رہا ہے۔ تقویٰ ہی رمضان کا حقیقی مقصد ہے اور تقویٰ یہی ہے کہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہو۔ تقویٰ کے معیار کے حصول کی خاطر ہی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپکی کتب اور ارشادات مختلف زاویوں سے اس طرف راہنمائی کرتے ہیں۔
  • حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتایا کہ ایمان کی حالت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک خدا کی پہچان نہ ہو۔ اور خدا شناسی کیلئے خدا تعالیٰ سے تعلق اور اور عبادتِ الہی ضروری ہے۔ پس یہ نہایت ہی بڑا کام ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ رمضان کا اثر انسان کی پوری زندگی پر نظر آئے یعنی رمضان کے نتیجہ میں باقی 11 مہینوں میں بھی انسان میں نیک تبدیلی پیدا ہو۔ پھر آپ علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ حقیقی ایمان وہی ہے جس کا ثبوت انسان کے اعمال سے ملے۔ یعنی کہ اگر انسان خدا تعالیٰ کے تمام احکام بجا لائے تب ہی حقیقی ایمان انسان کو حاصل ہو سکتا ہے ورنہ محض زبانی دعوے ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن اور اسلام کی تعلیم کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا تھا۔ لیکن مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ روزے رکھتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں لیکن تقویٰ سے عاری ہونے کی وجہ سے یہی چیزیں انھیں گناہ گار بنا رہی ہیں.
  • حضورِ انور نے فرمایا کہ مسلمانوں میں آج جتنے مسائل ہیں وہ خدا تعالیٰ کے احکامات سے دوری کا نتیجہ ہے۔ مثلا ابھی حال ہی میں افغانستان میں تقریبا 100لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فرمایا کہ پس جب ہم یہ ظلم و بربریت کے واقعات دیکھتے ہیں تو احمدیوں کو خاص طور پر اپنے اعمال کی طرف توجہ دینی چاہئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے باعث اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان لوگوں سے بالکل علیحدہ کر دیا ہے۔
  • قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اﷲُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر استقامت حاصل کی تو ایسے لوگو ں پر اسی دنیا میں فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس سے بھی مراد متقی لوگ ہیں یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر مستقل مزاجی سے قائم ہو گئے۔ ثم استقاموا یعنی ان پر بہت ابتلا آئے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے نہیں ہٹتے۔حضورِ انور نے فرمایا کہ ایسا نہیں کہ سال بھر میں صرف رمضان میں اس طرف توجہ پیدا ہو۔ پس اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرتا ہے ان لوگوں کا جو مستقل مزاجی سے خدا تعالیٰ کے احکامات پر چلنے والے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے ہیں۔
  • متقی کیسے بنا جا سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ متقی بننے کیلئے ضروری ہے کہ موٹے موٹے گناہ مثلا چوری ، زنا وغیرہ کو چھوڑنے کے بعد انسان اخلاقِ فاضلہ میں ترقی کرے۔ لوگوں سے حسنِ سلوک کرے۔ خدا تعالیٰ سے وفا کا تعلق ہو۔ ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے۔ فرمایا کہ اس سلسلہ کو خدا تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے ہی قائم کیا ہے کیونکہ تقویٰ کا میدان بالکل خالی ہے۔ پس یہ بات ہم پر رمضان میں بہت بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم ہر وقت اپنی حالتوں کے جائزے لیں اور تقویٰ میں بڑھنے والے ہوں اور پھر اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
  • آخر پر حضورِ انور نے مکرم خواجہ احمد صاحب درویش قادیان کے نمازِ جنازہ کا اعلان فرمایا۔