• تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور  انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننا ہم پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔ آپکو ماننے کے بعد ہمیں اپنے ایمان اور یقین میں بڑھنا چاہئے اور کھل کر اسلام کا پیغام پہنچانا چاہئے۔
  • بعض لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے جو آجکل حالات ہیں اس وجہ سے زیادہ اسلام کے متعلق بات نہ کی جائے گو اکثر سستی نہیں دکھاتے۔ ایسے وقت میں تو ہم میں اور زیادہ جرأ ت پیدا ہونی چاہئے۔ مسلمانوں کا بگاڑ تو اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہےکہ اس وقت اسلام کے حقیقی پیغام کیلئے مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ بھیجے گا ۔ ہم اس مسیح موعود ؑکو ماننے والے ہیں ۔اور اسی اسلام پر ہم عمل کرنے والے ہیں ۔پس کسی احساس کمتری کی ضرورت نہیں .
  • .اسی طرح بعض لوگ مغربی ممالک میں دنیا داری میں زیادہ ڈوب گئے ہیں۔ زبانی عہد تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں عمل اس سےمختلف ہیں ۔ یہاں سوسائٹی میں اخلاق تو اچھے ہیں لیکن عبادت کے معیاروں میں کمی ہے۔ آپسی عزت و احترام میں بھی کمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد صرف اعتقادی اصلاح نہ تھا بلکہ عملی اصلاح تھا ۔ جوں جوں ہماری مساجد بڑھ ر ہیں اورہماراپیغام پھیل رہا ہے اس سے دنیا کی تنقیدی نظر بھی ہم پر بڑھے گی۔ پس ضرورت ہے کہ عملی حالتوں میں بہتری پیدا کی جائے اوربیعت کے حقیقی مقاصد پر عمل کیا جائے۔
  • یاد رکھیں کہ مغربی ممالک میں 99 فیصد احمدی جماعت کی وجہ سے آئے ہیں اور یوں آپ سب جماعت کے خاموش مبلغ بھی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے جرمنی میں دیکھا ہے کہ احمدیوں کے معاشرہ کے افراد کے ساتھ تعلق تو اچھا ہے لیکن ان کو اسلام کا پیغام پوری طرح نہیں دیا گیا۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ مغربی ممالک کے لوگوں میں اسلام سے ایک خطرہ پایا جاتا ہے اور لوگ عمومی طور پرہمارے فنکشنز میں آنے سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماری ذمہ داری اور بڑر جاتی ہے۔ فرمایا کہ جب لوگ ہمارے فنکشنزپر آتے ہیں تو ان کا اسلام کے متعلق تصور بدل جاتا ہے۔اور اکثر کہتے ہیں کہ ہماری سوچیں بالکل غلط تھیں ۔ہم کو اب پتا چلا کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے محبت پھیلاننے والا مذہب ہے ۔ حضورِ انور نے جرمنی میں بعض حالیہ فنکشنز میں اس کی بعض مثالیں بھی پیش کیں۔
  • فرمایا: ہمارے بعض نوجوانوں کا خیال ہے کہ شائد پرانے اماموں اور اولیاء کے ذکر پڑھ کے ان کا علم بڑھ گیا ہے ۔ان کو پڑھ کے یہ نہ سمجھیں کہ آپ عالم بن گئے ۔ حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھ کے اپنا علم بڑھائیں ۔آپ ؑاس زمانہ کے حکم و عدل بن کر آئے تھے۔ہمیں یہ بات ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہیے ۔اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ دوسروں کی کتابیں پڑھ کر آپ عالم بن گئے۔عالم بننا ہے تو حضرت مسیح موعودؑ کی کتابیں پڑھیں۔ فرمایا کہ خاص طور پر اسلامی اصول کی فلاسفی ایسی کتاب ہے جسے پڑھ کو بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی ہے ۔ اس زمانہ میں حقیقی علم اور فلاسفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات سے مل سکتی ہے۔ جب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے تو پوری اطاعت ہونی چاہئے۔ بلا وجہ کے سوالات نہیں ہونے چاہئیں اس سے کامل اطاعت ظاہر نہیں ہوتی مگر جب دوسرے لوگ سوال کرتے ہیں تو پھر جواب پر ایمان لانے والوں کی تسلی ہو جاتی ہے ۔ اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلوں کو ہی ماننا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو لٹریچر ہے وہ ہر احمدی کوخود بھی پڑھنا چاہئے اور لوگوں میں بھی پھیلانا بھی چاہئے۔ ہر سوال کا جواب موجود ہے اور اس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اورآپکے خلفاء کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
  • فرمایا کہ گہرائی سے اپنے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ یاد رکھیں کوئی مجلس ہو انٹر نیٹ ہے اور جو نمازوں اور عبادت سے غافل کر رہی وہ مشرکانہ مجلس ہے ۔پانچ وقت کی نمازوں کو قائم کرو ۔میں نے جائزہ لیا اس میں بہت کمزوری نظر آر ہی ہے ۔دعا کے لئےکہتے ہیں تو پوچھو خود باقاعدہ نماز پڑھ رہے ہو تو جواب نفی میں ہوتا ہے ۔پس اگر دعا کے لئے کہنے والے اپنے اندر اور اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے تو دوسرے کو یہ درد کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ۔خود بھی دعا کریں تو دوسروں کی دعا بھی مدد کرتی ہے ۔ ۔اپنی اصلاح کر لیں گے تو باقی برائیاں دور ہو جائیں گی ۔ پس ہمیشہ اپنی کو تا ہیوں اور غلطیوں کے لئے استغفار کرتے رہنا چاہیے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے اور ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود کی بیعت کا حق ادا کرنےوالے ہوں ۔آمین