• تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 233 مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے باقاعدہ طور پر جماعت کی بنیاد رکھی۔

Sermon du vendredi 24 mars 2017, prononcé par Sa Sainteté le Calife, Hadrat Mirza Masroor Ahmad,

à la mosquée Baitul-Futuh à Londres. Après le Ta'awudh, le Tashahoud et la Sourate Al-Fatiha, Sa Sainteté le Calife a déclaré :

  • آپ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود اورمہدی موعود جس کی آنے کی آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خبر دی تھی وہ میں ہوں۔اور فرمایا کہ خدا چاہتا ہے کہ تمام سعید روحوں کو جو دنیامیں بستی ہیں ان کو حقیقی توحید کی طرف کھینچے اور اسی کیلئے میں بھیجا گیا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ مقام و مرتبہ مجھے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے عشق کی وجہ سے ملا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول و شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم , یہ وہ مقام ہے جو احمدی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو دیتے ہیں۔
  • آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان احمدیوں کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کو مسیح موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو کہ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے مبعوث کئے گئے ۔
  • حضرت مسیح موعود کو بڑا درد تھا کہ لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلایا جائے۔ مثلا فرمایا کہ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیو نکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو !اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرےگا۔یہ زند گی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھادوں۔کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں ۔
  • حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو یہ مقام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی پیروی کے باعث ملا ۔ فرمایا کہ جو لوگ حضرت مسیح موعو د کی مخالفت کرتے ہیں وہ عشقِ رسول میں آپکے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مثلا فرمایا : اگر میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی امُّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگزنہ پاتا۔
  • حضور نے عشقِ رسول کے اور واقعات بھی بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ یہ باتیں سن کر بھی جو حضرت مسیح موعو دؑ پراعتراض کرتا ہے وہ جاہل اور مفسد ہے اور اس کا معاملہ اب اللہ تعالیٰ پر ہے۔
  • حضور نے فرمایا: حقوق اللہ کی ادائیگی اور خلق اللہ سے محبت کا ادراک دلوانا بھی حضرت مسیح موعود کا ایک اہم مقصد تھا۔ اور اس بات کو آپ نے شرائطِ بیعت میں بھی شامل فرمایا۔ مثلا فرمایا کہ دین کے دو ہی حصے ہیں یا دو بڑے مقاصد ہیں۔ اول یہ کہ خدا کو جاننا اور اس سے محبت کرنا۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی محبت اور خدمت میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا۔ اس کے بعد حضورِانور نے آپ کی سیرت سے حقوق العباد کے بعض واقعات بیان فرمائے۔
  • حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت مسیح موعو د کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب اسلام کی حکومت جو دنیا میں قائم ہونی ہےاور اسلام کی جو فتح مقدر ہے وہ اب حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت سے ہی ہونی ہے۔ آجکل جو اسلام کے نام پردنیا میں جو واقعات ہورہے ہیں مثلا دو دن پہلے یہاں لندن میں جو واقعات ہوئے ہیں ۔یہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نام نہاد علماء نے لوگوں کی غلط راہنمائی کر کے ان کے دلوں میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بجائےظلم کے خیالات پیدا کر دیئے ۔اسلام کا دفاع اب ہم احمدیوں کا ہی کام ہے۔ان لوگوں کی مخالفت جماعت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
  • حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نوامید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔
  • اللہ تعالیٰ کے مسیح کے ہاتھ کا لگایا بیج پھل لا رہا ہے اگر ہم نے پھلدار بننا ہے تو پھر اپنے اعمال اور نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کو اس طرح بنائیں کہ ہمارے ہر عمل سے ایسا ظاہر ہو۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین