رمضان کا مہینہ آ کر تیزی سے نکل گیا اور ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم نے اس ماہ میں کیا حاصل کیا ہے۔
- اللہ تعالیٰ جو اس ماہ میں اپنے بندوں کے قریب ہو کر ان کی دعائیں سنتا ہے، ہم نے اس کی رحمتوں سے کہاں تک فائدہ اٹھا یا ہے یا کیا عہد کئے ہیں۔ اگر ہم نے نمازوں یا جمعوں یا تلاوتِ قرآن کریم میں باقاعدگی صرف رمضان کے مہینہ میں رکھنی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نہیں ہے۔ رمضان تو آتا ہے ایک ٹریننگ کیمپ کے طور پر اور اس میں سے گزرنے کے بعد ہماری زندگیوں میں مزید بہتری آنی چاہئے۔
- اللہ تعالیٰ نے تو اقیموا الصلوۃ اور حافظوا علی الصلوات کا حکم دیا ہے۔ خاص طور پر صلوۃ الوسطیٰ کی نصیحت کی ہے کیونکہ یہ وہ نماز ہے جو خاص طور پر ہمارے لئے ادا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جس کیلئے فجر پڑھنا زیادہ مشکل ہے وہی اس کیلئے صلوۃ الوسطیٰ ہے اوراسکو ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ زیادہ اجر دیتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک ادا کی گئیں پانچ نمازیں گناہوں کیلئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ کہ بڑے گناہوں سے بچا رہے۔
- اسی طرح نمازِ جمعہ کی اہمیت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے تین جمعہ متواتر چھوڑ دئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے یا دل سیاہ کر دیتا ہے۔ جو لوگ جمعہ کی نماز کی ادائیگی میں لا پرواہ کرتے ہیں انھیں خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ رمضان کا جمعہ پڑھ لو بلکہ ہر نمازِ جمعہ کی اہمیت قرآنِ کریم میں بیان کی ہے۔
- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[62:10] اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
- جمعہ کیلئے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مردوں پر فرض ہے۔ عورتیں اگر آئیں تو ان کیلئے زائد اجر ہے اور بعض اوقات عورتوں کے جمعہ کی وجہ سے انکی اولاد کو اس طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔ ہاں عید کی نماز پر سب کو آنا ضروری ہے۔ احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنی نوکری یا کام سے چھٹی لیکر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کیلئے ضرور آنا چاہئے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو پھر کام کے قریب اور ۳، ۴ احمدیوں کے ساتھ مل کر ادا کرلے۔ پس کسی بھی احمدی کو دنیوی وجہ سے جمعہ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔
- اسی طرح قرآنِ کریم کی تلاوت کو بھی رمضان کے علاوہ عام دنوں میں بھی جاری رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [17:79] یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔
- پور را سال توجہ کے ساتھ سمجھ کر قرآن کریم کی تلاوت میں سستی نہیں ہونی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ حضرت مسیح موعود نے ہمیشہ اپنی جماعت کو تلقین کی ہے کہ باقاعدگی سے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے چلے جائیں۔ ہر قسم کی برائی اور گندگی سے دور ہوتے چلے جائیں اور نیکیوں میں مزید بڑھتے چلے جائیں۔ پس ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ اس رمضان کے بعد ہم اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی توفیق عطا فرمائے۔
- حضورِ انور ایدہ اللہ نے دو نمازِ جنازہ غائب کا اعلان فرمایا۔ مکرمہ مشتاق زہرہ صاحبہ، مکرم ابو بکر صاحب۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔