Warning: "continue" targeting switch is equivalent to "break". Did you mean to use "continue 2"? in /home/atfalfr/waqfenau.fr/plugins/system/jabuilder/helper.php on line 265
تبلیغ اسلام ہر احمدی پر فرض ہے

قرآن مجید میں متعدد بار اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے  اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے ۔

ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ و عمل صا لحا و قال اننی من المسلمین ،

(حم السجدہ )ترجمہ اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہو گی جو کہ اللہ کی طرف لوگو ں کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو ں ۔)

یہ ایک دینی  اور مقدس ترین فر ض ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس کے محبوب ترین بندو ں یعنی انبیا اکرام کے سپرد کیا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جہا ں فریضہ تبلیغ کی اہمیت و عظمت کو ثابت کرتی ہے ۔ وہا ں  اس کیاادایئگی کی صورت میں خدا تعالیٰ خود تائیدو نصرت فرماتا ہے ۔جیسے انبیا علیہ السلام حضرت نو ح کی کشتی کو پار لگا دیا ،ابراہیم علیہ السلام کو ایسے دلائل عطا کئے کہ نمرود مبہوت رہ گیا اور بھڑکی ہوئی آگ ٹھندی ہو گئی ،حضرت یو سف کو موت کے کنو یں سے زندہ نکال دیا ۔موسیٰ کو فرعون کے چنگل سے نہ صرف آزاد کیا بلکہ فرعون کو نشان عبرت بنا دیا ۔حضرت یو نس کو تائیدِ الہیٰ سے مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکال دیا ،عیسیٰ کو صلیب سے زندہ اتارا.پیارے آقا  حضرت محمد ﷺکو تمام عرب کی دشمنی کے باوجود وہ مقام و مرتبہ عطا کیا کہ ایک دنیا نے دیکھا ۔یہ صرف قرآن ہی

نہیں بلکہ  احادیث سے بھی اس کی اہمیت واضع ہے حضرت سہل بن سعد ؓبیان کرتے ہیں کہ آخحضرت ﷺنے حضرت علؓی  سے فر ما یا خدا کی قسم : تیرے  ذریعہ ایک آدمی کا ھدایت پا جانا اعلیٰ درجہ کے سرخ اونٹوں کے مل جانے سے زیادہ بہتر ہے ۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں تو ایک بیج  بو نے آیا ہو ں اور وہ بیج میرے ہاتھو ں سے بو یا گیا ہے ،یہ بڑھے گا اور پھو لے گا اور کوئی نہیں جو اس کی ترقی کو روک سکے ، یہ

تبلیغ کا ہی کرشمہ تھا کہ قادیان جیسی چھو ٹی سی بستی سے احمدیت نکل  کر آج پوری دنیا میں پھیل گئی ہے ۔کیو نکہ وقت کے امام کو الہام ہو تا ہے ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہچاؤں گا “سو مشرق ہو یا مغرب شمال ہو جنوب جزائر ہو ں یا برِاعظم ہر کہیں حضرت مسیح موعود ؑکے خدام اللہ تعالیٰ کے اس آخری مکمل و اکمل پیغام کو جس کو اس نے  اپنے پیارے حبیب حضرت ﷺ پر نازل کیا تھا ۔لوگو ں کے دلو ں میں اتارنے میں مصروفِ عمل ہیں ۔تبلیغِ اسلام اس زمانہ میں بطورِ خاص جماعت احمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے جو احیائے اسلام کی عالمگیر تحریک ہے ۔

اس  کے بارے میں حضرت خلیفۃالمسیح الربع  رحمہ اللہ نے متعدد بار  یہ امر تا کیدً بیان فرمایا کہ اس زمانہ میں اصل اور حقیقی جہاد میں عملا ًشامل ہو نا نہ صرف اپنے فرضِ منصبی ادا کرنا ہے بلکہ ہر احمدی کی حقیقی سعادت اور خوش بختی اسی میں ہے کہ وہ ایک کامیاب داعی الی اللہ بن جائے ۔آپ نے مزید فرمایا ؛خوشی اور مسرت اور عزم اور یقین کے ساتھ آگے بڑھو ،تبلیغ کی جو جوت میرے مولا نے میرے دل میں جگائی ہے اور آج ہزارہا سینو ں میں جل رہی ہے اسکو بجھنے نہ دینا ،اس کو بجھنے نہ دینا ؛تمھیں خدائے واحدو یگانہ کی قسم ؛ اس  کو بجھنے نہ دینا ؛پیار ی ساتھیو ں : ہم  اس وقت یورپ کےخوشحا ل معاشرے میں اس دنیا کی لذات سے پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں جہا ں اللہ تعالیٰ کا خاص  فضل اور احسان ہے وہا ں ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جن کی طرف ہمارے پیارے آقا  خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے کئی خطبات اور تقاریر میں توجہ دلائی ہے مثلا ًجلسہ سالانہ جرمنی     2015میں       آپ نے پورا خطبہ تبلیغ کی اہمیت اور حکمت بھی بتائی آپ نے یورپ کے لوگو ں  کو بطورِ خاص  مخاطب فرمایا ۔پس ہم نے یہا ں کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرنے ،یا صرف اپنے مفاد کے لیے ان لوگو ں کو استعمال نہی کرنا  بلکہ ان کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو اسلام کی خوبیو ں کے بارے میں مستعقل مزاجی سے بتاتے رہیں بے شک دلوں کو کھو لنا تو اللہ کا نام ہے ۔تبلیغ کرنے کے اصول بتا تے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ کے لیے ضروری  ہے حکمت سے جواب دو برداشت اور ہمدردی کا مظاہرہ ہو برداشت بھی تب ہوتی ہے جب ہمدردی ہو اور حقیقی برداشت ہی ہے کہ میں نے بڑی بات کے حصول کے لئے چھوٹھی چھو ٹی باتو ں کو برداشت کرنا ہے مختلف طریقوں سے تبلیغ کرنی ہو گی ،ہر ایک کو ایک طریقے سے پیغا م نہیں پہنچا یا  جا سکتا ۔کوئی پڑھا لکھا ہے ،کوئی اپنے مذہب کے معاملے میں سخت ہے ۔ کوئی سانئس کی دلیل چاہتا ہے ۔کوئی جزباتی طریق سے متاثر ہوتا ہے کوئی اخلاق  دیکھ کر متاثر ہو تا ہے پھر تبلیغ کے لیے سچائی اور حقائق پر مبنی بات ہو ،آپ نے فرمایا حکمت کا مطلب نبوت بھی ہے یعنی تبلیغ اس ذریعہ سے کرو جو نبوت کا ذریعہ ہے اور مسلمانو ں کے لیے یہ ذریعہ قرآن مجید ہے پس قرآنی دلیل سے دنیا کو فتح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اپنی پسند کے دلائل سے کوشش کی جائے ،پس اس زمانے میں جہاں شیطان  یا شیطانی طاقتیں اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ دنیا کو شیطان کی جھولی میں گرانا چاہتی ہیں وہا ں دوسری طرف خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی یہ ذمہداری ڈالی ہے کہ دنیا کی ہدایت کی طرف راہنمائی کرے ۔اس بگڑے ہوئے وقت میں اللہ تعالیٰ  نے مسیح موعود کو نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لیے بیھجا  تھا ۔اب ہم میں سے ہر ایک نے اس نیئ زمین اور نیا آسمان  کو بنانے کے لیے اپنا  کردار ادا کرنا ہے ،آخر میں میں اپنی تقریر خلیفۃ المسح الربع رحمہ اللہ کے الفاظ پہ ختم کرتی ہوں آپ فرماتے ہیں ،اس مقدس امانت کی خفاظت کرو ۔یہ لو بلند تر ہو گی اور پھیلے گی اور سینہ بہ سینہ روشن ہو تی چلی جائے گی اور تمام روئے زمین کو گھیر لے گی اور تمام تاریکیو ں کو اجالو ں میں بدل دے گی انشا ء اللہ

ان دلو ں کو بدل دے اے میرے قادر خدا                       تو تو رب العالمین ہے اور سب کا شہر یار


Magazine - Other articles