• شروع میں حضور انور ایدہ اﷲ نے بعض  انتظامی مسائل سے متعلق نصائح فرمائیں کہ وقت پرپلاننگ نہ کرنے کے باعث بعض کام پو ری طرح کامیاب نہیں ہوتے۔ہرکام کیلئےشروع سے ہی سنجیدگی سے کام کیا جائےور نِہ مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے مثلا بیت السبو ح مسجد کے ساتھ والی بلڈنگ میں اب تک نماز کی اجازت نہیں ملی جسکی وجہ سے آج ایسی جگہ نماز پڑھی جارہی ہے جہاں جہازوں کا کافی شور ہے ۔
  • بعض کام سستی کی وجہ سے پورے نہیں کئے گئے ۔
  • اﷲتعالیٰ تمام عہدیداران اور انتظامیہ کو بہتر رنگ میں کام کی توفیق عطا فرمائے ۔
  • اس کے بعد حضور نے تین مرحومین کا ذکر خیر فرمایا۔ ایک شہید، ایک مربی اور ایک حضرت مسیح موعودؑ کی پوتی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ان تینوں مرحومین کے اوصاف ایسے ہیں کہ جماعت کے ہرفرد کیلئے ان میں سبق ہے، یہ لوگ قرآنی آیت من قضی نحبه یعنی منت کو پورے کرنے والے کے مصداق ہیں۔
  • ان میں سے پہلے ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب ہیں جن کو گزشتہ جمعہ کو پاکستان میں شہید کر دیا گیا ، انکی عمر 68 سال تھی اور نماز جمعہ پر جاتے ہوئے ان کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا ، مرحوم موصی تھے اور خلافت سے گہری محبت رکھنے والے تھے ، موثر رنگ میں تبلیغ بھی کیا کرتے تھے جسکی وجہ سے آپکو دھمکیاں بھی ملتی تھیں لیکن آپ ان کی زیادہ پرواہ نہ کیا کرتے تھے ، جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔
  • دوسرے مرحوم جن کاحضور انور نے ذکر فرمایا وہ ناصر الدین صاحب مبلغ انڈیا تھے جو 42 سال کی عمر میں وفات پاگئے ، حادثہ کے روز آپ تیراکی کیلئے دریا پر گئے لیکن اس دوران آپ لاپتہ ہوگئے اور ایک گھنٹہ بعد ان کی نعش کنارہ پر ملی ، سال 2000 میں آپ جامعہ احمدیہ قادیان سے پاس ہوئے تھے اور عمدہ رنگ میں تعلیم و تربیت کا کام بجا لارہے تھے ، بعض دفعہ تبلیغ کے باعث آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ مخالفت سے ہر گز ڈرے نہیں ، نہایت سادہ لوح تھے، تمام لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے ، بڑے اہتمام سے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے ، ایسا کرنا ہر مبلغ کیلئے نہایت ضروری ہے۔
  • پھر حضور نے صاحبزادی مکرمہ امتہ الوحید صاحبہ کا ذکر کیا جو کہ میاں خورشید احمد صاحب کی اہلیہ تھیں، آپ کی عمر 86 سال تھی، آپ مرزا شریف احمد صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور حضور انور کی پھوپھی تھیں ، آپ نے طویل بیماری کو نہایت صبر کے ساتھ برداشت کیا اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی تھیں، خلافت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق تھا ، حضور انور نے فرمایا کہ باوجود بڑا ہونے کے بڑی عزت سے ملتی تھیں ، رشتوں کو مثالی رنگ میں نبھاتی تھیں ، اپنی چھ بہوؤں کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا، بچو ں کی نہایت اچھی تربیت کی جس کی وجہ سے آپ کے چھ بیٹوں میں سے چار واقف زندگی کے طور پر کام کر رہے ہیں ، لمبا عرصہ لجنہ اماءاﷲ میں خدمت بجا لائیں ، جلسہ سالانہ پر بہت سے مہمانوں کا خیال رکھا کرتی تھیں ، اسی طرح غرباء کا خیال رکھتی تھیں ، اﷲتعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور بچوں میں بھی ان کی نیکیاں جاری رکھے ۔ آمین