تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت مسلمانوں اور غیرمسلموں کی طرف سے شروع سے ہی ہو رہی ہے اور آج بھی جاری ہے۔
لیکن خدا تعالیٰ آپکی جماعت کو بڑھاتا جا رہا ہے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت 209 ممالک میں قائم ہو چکی ہے۔ جہاں بھی جماعت کی ترقی ہوتی ہے وہاں کے مولوی اور سیاستدان خاص طور پر مخالفت کرتے ہیں۔ آجکل الجزائر میں خاص طور پر مخالفت کی جا رہی ہے اور جج صاحبان اور حکومتی نمائندے یہی کہتے ہیں کہ اگر تم مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کر دو تو تمہیں جیل سے بری کر دیا جائیگا۔ اور پھر جو لوگ ایمانوں پر قائم ہیں ان کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور بڑے بڑے جرمانے کئے جا رہے ہیں۔ ان معصوموں اور مظلوموں کو ہمیں اپنی دعاؤں میں رکھنا چاہئے۔ اسی طرح پاکستان کے احمدیوں کیلئے بھی دعا کریں۔
مسلم ممالک جو آجکل فساد کی حالت میں ہیں ان کیلئے یہی کافی دلیل ہے کہ ان حالات میں انھیں اس زمانہ کے امام کو تلاش کرنا چاہئے۔ مسیح موعود اور امام مہدی کی تمام نشانیاں بھی پوری ہو چکی ہیں۔ یہی ایک راستہ ہے جو مسلمانوں کی عظمت کو دبارہ قائم کرسکتا۔
یہ لوگ اگر ایک جگہ مخالفت کرتے ہیں تو سو اور جگہ پر اللہ تعالیٰ تبلیغ کے میدان ہمارے لئے کھول رہا ہے۔ الجزائر میں بھی مخالفت کے باعث جماعت کا پیغام لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہماری مخالفت سے لوگوں میں ہماری کتب پڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔
حضور نے فرمایا کہ: آج مسلمانوں کی حالت ایسی ہے اور یہ لوگ گواہی بھی دیتے ہیں کہ آج مسلم اّمہ کو ایک مصلح کی ضروورت ہے۔ لیکن جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ا سے یہ لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں۔اس کے باوجود خدا تعالیٰ کی اپنی تقدیرکام کر رہی ہے اور لاکھوں لوگوں کا جماعت میں ہر سال شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید جماعت کے ساتھ ہے۔فرمایا کہ: ایسے بیشمار لوگ اپنے واقعات لکھتے ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح نیک فطرت لوگوں کی ہدایت کا کام خدا تعالیٰ خودبجا لارہا ہے۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ممالک سے ایسے متعدد واقعات بیان کئے کہ کس طرح خوابوں کے ذریعہ، ایم ٹی کے ذریعہ، مخالفت کے ذریعہ اور اوردوسرے ذرائع سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کا سامان کر رہا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کیا کرتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں ۔ اگر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تو پھر بھی زمانے کے حالات معلوم کر کے مسلمانوں پر واجب تھا کہ دیوانہ وار پھرتے کہ کسرِ صلیب کیلئے کیوں مسیح نہیں آیا۔ اگر ملاؤ ں کو عوام عامہ کی بہبودی مد نظر ہوتی تو وہ ہماری دشمنی ہرگز نہ کرتے۔ یہ لوگ بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں کہ کسی نہ کسی رنگ میں یہ ہماری بات کو مشرق سے مغرب تک پہنچا دیتے ہیں ۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ: پس ہمیں مخالفت سے کوئی فکر نہیں خواہ پاکستان ہو یا الجزائر۔ اس مخالفت سے ہماری مزید تبلیغ ہو رہی ہے اورتعارف بڑھ رہا ہے۔ ان لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہیئں کہ اگر مجھے قبول نہ کرو گے تو پھر کبھی بھی آنے والے موعود کو نہ پاؤ گے۔میری نصیحت ہے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور خداترسی سے ان باتوں پر غور کرو اور تنہائی میں نیک نیتی سے سوچو اور اللہ تعالیٰ سے راہنمائی حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے سینے احمدیت کیلئے کھولے۔ آمین۔
حضورِ انور نے ایک ڈینش احمدی مکرم حاجی جانسن صاحب کا نمازِ جنازہ ادا کیا جنکی دو دن پہلے وفات ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔